اس تحریر میں بہت ہی اعلی ترین موضوع پر گفتگو کررہے ہیں جس کا ذکر قرآن کریم میں اللہ کریم نے بہت جگہ پر ارشاد فرمایا اور نبی کریم ﷺ کے پسندیدہ پھلوں میں وہ شمار ہوتی ہیں ۔یعنی کھجور۔یہ بھر پور نشونما کرنے والے پھلوں میں سے ایک ہے یہ ایک ایسی غذا ہے جو زبر دست اہمیت کی حامل ہے اسے صحرا کی خوراک بھی کہاجاتا ہے لیکن اب اس کا استعمال پوری دنیا میں ہوتا ہے یہ خشک اور تازہ پھلوں میں ملتی ہے ساٹھ سے ستر فیصد تک شکر ہوتی ہے درخت پر پکی ہوئی کھجور بہت ہی لذیذہوتی ہے لیکن یہ بہت جلد گداز ہوتی ہے اس لئے اسے دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے۔

خشک کرنے سے اس کا وزن تقریبا 35 فیصد تک کم ہوجاتا ہے اللہ نے کھجور کے بارے میں بارہا کھجور کے بارے میں فرمایا :کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا ایک باغ کھجوروں کا ہو اور انگوروں کا ہو جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں۔کھجور کی غذائی اہمیت کیا ہے؟کھجور کے سو گرام خوردنی حصہ میں 15 فیصد پانی،2فیصد پروٹین ،چکنائی ،2 فیصد معدنی اجزاء ،3فیصد ریشے،75 فیصد کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جب کہ اس کے حیاتیاتی اور معدنی اجزاء میں 120 ملی گرام کیلشیم،50 ملی گرام فاسفورس،7 ملی گرام آئرن ،3ملی گرام وائٹامن سی اور کچھ مقدار وائٹامن ڈی کمپلیکس بھی پائے جاتے ہیں اس کے 100 گرام میں 315 کیلوریز غذائی صلاحیت ہے اسلام سرسبز درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کرتا ہے۔

اس سے پہلے عرب اور ایک دوسرے کی دشمنی اور رقابت میں ایک دوسرے کے کھجور کے درخت کاٹ دیئے جاتے تھے کیونکہ کھجور کے پودوں میں نر اور مادہ درخت ہوتے ہیں ان میں عمل تولید پھولوں کے ذریعے ہوتا ہے ایک نر درخت سو مادہ درختوں کے لئے کافی سمجھا جاتا ہے ۔شفابخش قوت اور اس کا طبی استعمال ۔بلغم اور سردی کے اثر سے پیدا ہونے والے امراض کی صورت میں کھجور کھانا بہت ہی بہتر رہتا ہے ، دماغ کے ضعف کو کم کرتی ہے جس کی یادداشت کمزور پڑجائے کھجور کھانےسے یادداشت تیز ہوجاتی ہے قلب کو تقویت پہنچاتی ہے خون کی کمی کو پورا کرتی ہے گردوں کو طاقت دیتی ہے سانس کی تکلیف میں سکون پہنچاتی ہے دمہ کے مریضوں کے لئے بہت سود مند ہے کھانسی بخار پیچش میں کھجور استعمال کرنے سے افاقہ ہوتا ہے قبض کو رفع کرتی ہے پیشاب آور ہے قوت باہ کو بڑھاتی ہے اچھی صحت کے لئے کھجور لاجواب ٹانک ہے طب نبوی میں کھجور کی بڑی افادیت بیان کی گئی ہے البتہ بیماری کے بعد صحت یابی کے دوران کھجور کھانا درست نہیں اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں