چھٹکارہ ہمیشہ کےلیے

کی تکلیف یا دائمی کھانسی میں مبتلا مریضوں کو سردیوں اور بہار کے موسم کے آغاز سے پہلے ہی بہت محتاط ہو جانا چاہیے کیونکہ پھیپھڑوں کی نالیوں میں جمع ہونے والی بلغم نزلے زکام کے جراثیموں کی آماجگاہ بن جاتی ہے جہاں وہ تیزی سے نشو و نما پاتے ہیں۔ یہ بلغم کبھی کبھی شدید کھانسی کی صورت میں بھی باہر نہیں نکلتی، نالیوں کو جکڑے رکھتی ہے اور اکثر پھیپھڑوں کے مہلک انفیکشن کا سبب بنتی ہے۔شدید کھانسی عموماً لگ بھگ تین ہفتے رہتی ہے۔

کھانسی کی چند دیگر اقسام ٹھیک ہونے میں کبھی کبھی کافی وقت لے لیتی ہیں تاہم کھانسی کسی بھی نوعیت کی ہو اس کا تعلق نظام تنفس میں پیدا ہونے والے کسی نقص سے ضرور ہوتا ہے۔ گلے کی خرابی، حلق کی سوزش، سانس کی نالی میں کسی قسم کے انفیکشن کا جنم لینا یا پھیپھڑوں کی خرابی، کھانسی کا سبب بنتی ہے۔

کھانسی کا موثرعلاج نہ ہونے کی صورت میں یہ خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔آسان اور متبادل علاج کھانسی کم کرنے یا روکنے والے مختلف شربت دیکھنے میں بہت بھلے لگتے ہیں۔ جیب پہ بھی خاصا بوجھ ڈالتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے بچنا بہترہے۔ تھوڑی بہت کھانسی ہونا فائدہ مند ہے۔ اس سے سانس کی نالی صاف ہوتی رہتی ہے۔

زیادہ کھانسی کی صورت میں مندرجہ ذیل گھریلو علاج فائدہ مند ہے۔ لیموں کے عرق سے تولیے کو تر کر کے سینے کو لپیٹنے سے بھی کھانسی میں آرام آتا ہے۔ *گرم دودھ میں شہد ملا کر پینے سے پھیپھڑوں سے بلغم صاف ہو جاتا ہے۔ نمک کے پانی سے غرارے کرنے اور نمک کے گرم پانی کا بھاپ لینے سے ناک اور گلے کی سوزش میں کمی آتی ہے اور سانس کی نالی پر حملہ کرنے والے جراثیم بھی مر جاتے ہیں۔ اس طرح کھانسی پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ *شدید کھانسی میں سانس لینے کا عمل غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ تیز تیز سانس لینا کھانسی اور پھیپھڑے میں جمع بلغم کو صاف کرنے میں مدد نہیں دیتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *