دیسی گھی کے کیا کیافائدے ہیں دیسی گھی کو دوطریقوں سے استعمال کیاجاسکتا ہے اورل روٹ کے ذریعے یا نیزل روٹ ۔دیسی گھی کو نیزل روٹ سے لینے سے کیاکیا فائدہ ہوتا ہے یعنی ناک میں گھی ڈالنے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے ۔ یہاں ایک سوال پیداہوگا کہ جب ہم دیسی گھی کو منہ کے ذریعے کھاسکتے ہیں تو پھر ناک سے لینے کی کیا ضرورت ہے ؟یہ ضرورت اس لئے ہوتی ہے کہ ہمارے جسم میں جتنی بھی شریانیں یا اعصابی کنکشن ہوتے ہیں وہ سارے کے سارے ہمارے دماغ سے جڑے ہوتے ہیں اور ہمارے دماغ کا گیٹ ہماری ناک ہوتی ہے ہم جوبھی دوا اپنی ناک کے ذریعے استعمال کرتے ہیں وہ سیدھی ہمارے دماغ کے اوپری حصے میں جاتی ہے جو ہمارے بلڈ سرکولیٹری سسٹم کو کنٹرول کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے جسم میں کندھوں سے اوپر کے تمام مسائل اور پورے جسم میں پیدا ہونے والی سبھی پریشانیاں ختم ہوجاتی ہیں ہماری ناک ہمارے جسم میں موجود تمام بلڈ ویسلز کا مین انٹری گیٹ ہے ۔

سانس ہمیشہ ناک سے لینا چاہئے اور گہرا سانس لینا چاہئے اس بات کو اس لئے کہاجاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنی ناک سے گہرا سانس لیتے ہو تو ہمارے پیروں کی انگلیوں اور ہاتھوں کے انگلیوں کے آخری سرے تک آکسیجن پہنچ جاتی ہے اور جب آپ منہ سے سانس کو خارج کرتے ہو تو پورے جسم سے ٹاکسنز یعنی کہ فاسد مادے ہمارے منہ کی ہوا کے ذریعے خارج ہوجاتے ہیں چونکہ ہماری نکا میں تمام بلڈ ویسلز ہوتی ہیں اس لئے اگر کوئی بھی چیز جو ہمارے لئے سب سے زیاد فائدہ مند ہے تو وہ چیز اگر ناک کے ذریعے ہمارے جسم میں جائے گی تو ہمارے جسم کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے گی ۔دیسی گھی ہمارے لئے بہت ہی زیادہ فائدہ مندہے اور اگر ہم دیسی گھی کو ناک کے ذریعے جسم میں داخل کریں گے تو ہم دیسی گھی کے سو گنا زیادہ فائدے حاصل کریں گے ۔طبی علاج کے دوران ایک کام کیاجاتا ہے کچھ ادویات لیکوئیڈ یا پاؤڈر کی شکل میں ناک کے ذریعے دی جاتی ہیں جو ہمارے جسم سے سارے ٹاکسنز کو باہر نکا لدیتی ہیں یہ عمل اس وقت کیاجاتا ہے۔

جب ہمارے کندھوں سے اوپر کی بیماریاں ہوجائیں یا ہونے والی ہوں ناک کے ذریعے ادویات دے کر جو علاج کیاجاتا ہے اس کو مزید سمجھ لیجئے جو بھی ادویات ہم ناک کے ذریعے لیتے ہیں ان کو ہمارے جسم میں داخل ہونے کے لئے جگر سے نہیں گزرنا پڑتا دوا سیدھا اسی جگہ پر اپنا کام کرتی ہے جہاں پر اس کی ضرورت ہوتی جس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جلد اثر ہوتا ہے ہماری ناک میں بہت ساری بلڈ ویسلز ہوتی ہیں اس لئے ہم جو بھی دوائی ناک میں ڈالتے ہیں وہ بڑے اچھے طریقے سے پوری باڈی میں سرکولیٹ ہوجاتی ہے اور جو بھی دوا ہم لے رہے ہوتے ہیں اس کی بائیو اویل ابیلٹی بڑھ جاتی ہے ۔ناک کے ذریعے کسی بھی دوا کو لینے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں دوا کی بہت ہی معمولی سی مقدار لینی پڑتی ہے اور فائدہ بہت ہی بڑا ملتا ہے بالکل اسی طرح جب ہم اپنی ناک میں دیسی گھی ڈالتے ہیں تو یہ سب سے پہلے ہمارے برین کو نرش کرتا ہے اس کا مطلب ہے کہ جیسے ہی آپ اپنے ناک میں دیسی گھی ڈالتے ہو تو یہ بہت ہی اچھے برین ٹانک کا کام کرتا ہے۔

اس سے نہ صرف آپ کی یادداشت بہتر ہوتی ہے بلکہ آپ کی کنسنٹریشن بھی بہت اچھی ہوجاتی ہے اب ذرا اس کی وجہ بھی جان لیجئے ہمارے دماغ کا ساٹھ فیصد حصہ فیٹی ایسڈز سے بنا ہوتا ہے اور دیسی گھی میں وہ تمام ایسینشیل فیٹی ایسڈ ز ہوتے ہیں جو ہمارے دماگ کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں ہم جیسے ہی دیسی گھی کے قطرے اپنے ناک میں ڈالتے ہیں تو یہ سیدھا ہمارے نیورولوجیکل اینڈوکرائینل ، اور بلڈ سرکولیٹری سسٹمز کو نرش کردیتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے دماغ میں ایک نئی جان آجاتی ہے اور دماغ بالکل تر و تازہ ہوجاتا ہے ۔ایسے افراد جن کو بہت زیادہ کنسنٹریٹ ہوکر کام کرنا پڑتا ہو اور ایسے افراد جن کو چیزیں لمبے عرصے تک یادرکھنے کی ضرورت پڑتی ہو تو ان تمام افرادکو اپنے ناک میں دیسی گھی ضرور ڈالنا چاہئے۔دیسی گھی چونکہ ایک بہترین ایٹی بیکٹیریل خصوصیات رکھتا ہے اسی لئے یہ ہمارے کندھے سے اوپر تمام اندرونی اعضا کو بہترین ڈیٹاکسیفائی کردیتا ہے۔

دیسی گھی کے بے شمار جادوئی فوائد ہیں، یہ نا صرف وزن میں کمی لاتا ہے بلکہ نزلہ زکام اور خشک کھانسی میں بھی آرام فراہم کرتا ہے۔ہر پکوان کی ضرورت گھی سے متعلق ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ دبلے ہونے کی غرض سے مکمل طور پر گھی کو اپنی غذا سے نکال دینا نہایت غلط فیصلہ ہے، یہ ایک غلط تاثر ہے، گھی کا استعمال بغیر کسی غلط فہمی اور پچھتاوے کے کرنا چاہیے۔ماہرین کے مطابق گھی کا استعمال شوگر کے مریضوں اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بہترین آپشن ہے ۔ماہرین غذائیت کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر گھی کو اپنی غذا میں شامل کرتے ہوئے ایک چائے کا چمچ ناشتے، دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے میں کھانا چاہئے، یہ روٹین زیادہ عمر کی خواتین، شوگر اور دل کے مریض، ہائی بلڈ پریشر ، قبض کی شکایت ، بدہضمی، نزلہ زُکام خشک کھانسی اور کمزور جوڑوں میں بہتر اور اچھا علاج ہے ۔دوپہر کے کھانے میں گھی کے استعمال سے شام میں بلاوجہ کی بھوک سے چھٹکارہ مل جاتا ہے۔

جس سے انسان بھوک محسوس کرتے ہوئے دوبارہ کچھ مضر صحت کھانے سے بچ جاتا ہے۔دوپہر کے کھانے کے بعد اگر بہت نیند آتی ہے یا آپ کی خود کو تھکا ہوا محسوس کرتے ہیں تو گھی کے استعمال سے چاق و چوبند رہنے میں آسانی رہتی ہے۔اگر آپ رات میں اچھی اور بہتر نیند لیناچاہتے ہیں تو رات کے کھانے میں ضرور 2 سے 3 گھی کے چمچوں کا استعمال کریں، اس سے بے خوابی میں آرام ملے گا قبض کی شکایت بھی دور ہو جائے گی۔ماہرین غذائیت کے مطابق مناسب گھی کا استعمال موٹاپے کی شکل اختیار کرنے کے بجائے کولیسٹرول لیول کی متوازن سرکولیشن ہوتی ہے جس کے سبب لیپڈز کے بڑھنے سے میٹابالز م کا عمل تیز ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق ایک دن میں 3 سے 6 چائے کے چمچ گھی کا استعمال لازمی کرنا چاہیے، اگر دیسی گھی میسر نہیں تو اس کی جگہ مکھن کا استعمال کریں جو تازہ اور یسی ہو۔دیسی گھی کا استعمال انسانی جسم کے درجہ حرارت پر پگھل جاتا ہے جس سے موٹاپے میں اضافے کے بجائے صحت میں مثبت تبدیلیاں آتی ہیں اور آنتوں کے امراض میں واضح کمی آتی ہے۔موسم سرما کے آتے ہی اگر غذا میں گھی کا استعمال شروع کر دیا جائے تو اس سے موسمی بیماریوں سے دور رہنے کے ساتھ ساتھ قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے ۔اگر ناک بند ہوجائے اور خشک موسم میں سانس لینے میں مسئلہ ہوتو گھی گرم کر کے ناک میں ڈالنے سے ناک کھُل جاتی ہے اور سانس لینے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں